آرام[1]

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - ٹھہرا ہوا، ساکن، مطمئن (ذہنی یا مادی طور پر)۔  برپا ہیں بہر سمت حوادث کے تلاطم دریا مری تقدیر کا آرام نہیں ہے      ( ١٩٥١ء، حسرت موہانی، ک، ٢٥٦ ) ١ - قرار، اطمینان، سکھ، چین، سکون  در پے رہی کل تک تو بہت گردش آیام اب بند ہوئی آنکھ تو ہے قبر میں آرام      ( ١٩١٢ء، شمیم، مرقع عبرت (مرثیہ)، ٣ ) ٢ - راحت، آسائش، آسودگی، لطف۔  ہے پر فضا مقام کہ دریا قریب ہے آرام ہر طرح کا ہمیں یاں نصیب ہے      ( ١٩١١ء، برجیس، مرثیہ (ق)، ١١ ) ٣ - استراحت، نیند، خواب راحت، لیٹنے کی حالت، سونا۔  بچھا ہے پلنگ آج لب بام کسی کا تڑپائے گا شب بھر مجھے آرام کسی کا      ( ١٨٣٦ء، ریاض البحر، ١٨ )

اشتقاق

یہ اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ فارسی مصدر 'آرامیدن' سے مشتق ہے اردو میں بطور اسم اور صفت دونوں طرح مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٤٣٥ء میں "کدم راؤ پدم راؤ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: آرامیدن